Thursday, 1 May 2014

Morning Walk صبح کی سیر


صبح کی سیر



میں ٹریک پر بھاگ رہا تھا۔ مجھے جوگنگ کرتے ہوے بہت مزا آرہا تھا۔ میں نے اپنے روزانہ کے چکر مکمل کیے اور سائید پر بیٹھ کر سستانے لگا یہ میرا روز کا معمول تھا ۔ لیکن اس دن میں دوبارہ اٹھا اور بھاگنے لگا ۔ میں نے دو چکر مزید لگائے اور گھر کی طرف چلنے لگا ۔
جس دن سے میں نے واک شروع کی اس دن سے غیر محسوس طریقے سے میرے اندر مثبت اور خوش آئیند تبدیلیاں آنا شروع ھو گئیں ۔ میں رات جلدی سو جاتا اور صبح جلدی اٹھ جاتا ۔ مجھے بھوک بھی زیادہ لگنے لگی ۔ میرے صحت بھی اچھی ہونے لگی۔ میں پڑھائی میں بھی آگے نکلنے لگا۔
گو کہ میری پوری زندگی صرف صبح کی سیر نے یکسر بدل دی ۔ نہیں یقین آیا نہ ۔
آپ بھی صبح سویر اٹھ کر نماز پڑھیں واک پر جائیں تو آپ کی زندگی میں بھی بہت سی مثبت تبدیلیاں آسکتی ہیں بلکہ آئیں گی ۔
لیکن شرط یہ ہے کہ آپ واک شروع کریں ۔ صبح نہیں جا سکتے تو شام کو ہی چلے جائیں جائیں تو صحیح ۔
تجربہ شرط ہے ۔ یہ اس لئے لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

Wednesday, 30 April 2014

کامیاب  طالب علم(غیر روایتی مگر آجکل کے طلباء کیلئے موزوں او ر جامع تحریر ہے)

ہمارے وطنِ عزیز کے طالب علموں کی مثال گدھوں کی سی ہے۔ہاں  جی  اور نہیں تو  کیا ۔ایک طالب علم گدھے کی طرح کتابوں کا بو جھ اٹھا تا ہو ا   آہستہ   آہستہ منزل کی طرف چلتا  رہتا  ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ  منزل  پر پہنچ کر اسے ڈگری یا پھر چارہ  مل جائے گا۔
طالب علم کی زندگی صرف ڈگری لینے کیلئے نہیں ہوتی۔ زندگی صرف کتابوں اور بستوں کا نام نہیں ۔ہم بچپن ہی سے اپنے بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں ۔لیکن بچہ پڑھائی سے تنگ آکر اسکو ایک بوجھ سمجھتا ہے  اور ہمیشہ اس سے جان چھڑاتا ہے۔ اور پوری زندگی اسے  اپنی مجبوری سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا ۔
غیر نصانی کتب کا مطالعہ
میں اکثر   اپنے  دوستوں  اور کزنز سے  پوچھتا  ہوں کہ  آجکل کونسی کتاب  کا  مطالعہ کررہے  ہیں تو  آگے سے ہمیشہ جلاکٹا   جواب  ملتا  ہے کہ نصاب   سے تو  جان  چھٹتی  نہیں   دوسری   کتب کیا  خاک  پڑھیں ۔  میرے خیال میں یہ کوئی   ٹھوس وجہ نہیں کہ  اس  وجہ   سے کتب  بینی چھوڑدی  جائے ۔اگر  آپ کے پاس وقت نہیں تو آپ  جتنا  پڑھ  سکتے  ہیں  اتنا  تو  پڑھئے جتنا وقت ہے زیادہ نہیں تو صف ایک صفہ ہی پڑھ لی جیئے اگر وہ بھی نہیں تو آدھا بھی چلے گا مگر پڑھئے تو سہی۔ اس سے نہ صرف آپ اپنے ہم جماعتوں سے آگے نکلیں گے بلکہ آپ کے علم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ھو گا ۔یہ میرا آزمودہ ذاتی تجربہ ہے۔ میں نے پر 4-5 کلاس میں بچوں کے رسالے پڑھنا شروع کیے تھے پھر وقت کے ساتھ ساتھ دوسری کتب کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔میں نے شہاب نامہ سے لے کر "روڈ ٹو سکسیس"  تقریباً ہر کتاب پڑھی اور میری اردو اور انگریزی اپنے ہم جماعتوں کے لحا ز سے کافی بہتر ہو گئی۔اس سے میرے نصابی سرگرمیوں پر بہت ہی اچھے اثرات مرتب ہوئے۔


کھیل کود



اکثر طالب علم کتابی کیڑا بن جانے کو ہی کامیابی کی سیڑھی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حقیقت اس سے بلکل مختلف ہے اور یہ بات بھی ناچیز کے مشاہدہ میں رہی ہے کہ ایسے طالب علم زیادہ تر متوقہ نمبر نہیں لیتے۔ میرے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں ۔ اس لیئے ہر طالب علم کو چاہیئے کے اگر روزانہ نہیں تو ہفتہ میں تین دن ہی اپنا پسندیدہ کھیل کھیلے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک دن تو کھیل لے یار۔اس سے دماغی اور جسمایے صحت پر خوش آئند اثرات پڑیں گے۔ آپ چست اور توانا رہیں گے۔ اس سے آپ کے پرھائی بھی اچھے سے جاری رہے گی۔

انٹرنیٹ اور فلمیں





انٹرنیٹ آج کے دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں ۔ اس کے بہت سے نقصان بھی ہیں لیکن ہم یہاں صرف اسکے طلباء کیلئے فوائد کا ہی ذکر کریں گے۔

جو طلباء انٹرنیٹ کے سود مند جال سے دور رہتے ہیں۔ وہ اس ہمہ وقت بدلتی دنیا سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ انٹرنیٹ کا مثبت استعمال بندے کو ایک مقام پر پہنچا دیتا ہے۔

مثبت اور منا سب فلمیں بھی طلباء پر اچھا اثر ڈال سکتی ہیں ۔ اب فلموں میں ناچ گانوں کے علاوہ بھی بہت سی اچھی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ لوگ صرف لطف اندوز ہونے کیلئے فلمیں دیکھتے تھے مگر اب وقت بدل چکا ہے۔ اب لوگ فلموں میں تعمیری پہلو تلاش کرتے ہیں۔ اچھی اور مقصدیت کی حامل فلمیں طلباء میں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مثلاً آپ ڈاکومینتریز مویز دیکھ سکتے ہیں وغیرۃ وغیرۃ۔

تحقیقی کام







آپ بھی سوچ رہے ہوں گیں کہ ایک سٹوڈنٹ بیک وقت اتنے کام کیسے کرکستا ہے کے کتابیں بھی پڑھے،کھیلوں مین بھی حصہ لے ، انٹرنیٹ بھی چلائے تحقیقی کام بھی کرے ۔ تو محترم اس کا آسان اور مفید حل آپ کو بتلائے دیتا ہوں۔
آپ ایک ایسا کام یا شخصیت منتخب کریں جو آپ کی نصاب سے متعلق ہو مثلاً آپ مطالعہ پاکستان میں سردار عبدالرب نشتر کے بارے میں پڑھتے ہیں یا تھومس ایڈیسن کے بارے میں تو آپ اس پر تحقیق کریں ۔ اور جی تحقیق کیسے کریں تو آپ اوپر بیان کی گئی ہیڈنگز کو دیکھیں مثلاً آپ ایڈیسن کے بارے میں کوی کتاب پڑھیں ، اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر تحقیق کریں ، اس سے متعلقہ کوئی ڈاکومینٹری فلم دیکھیں۔ آپ اسکے باری میں مکمل معلومات اکھٹی کریں ۔ آپ اس کے بارے میں وہ سب کچھ جان لیں جو وہ اپنے بارے میں جانتا تھا۔ اسی "طرح آپ کوئی ساینٹیفک تھیوری جیسے آئن سٹائن کی "سٹیٹک یونیورس کی تھیوری وغیرۃ آپ اس پر بھی تحقیق کیلئے بھی اوپر دیا طریقہ استعمال کریں۔
آپ کی تحقیق 1 ہفتہ سے لے کر 1 مہینہ بھی لگ سکتا ہے۔
یقین جانئے ایسا کرنے سے نہ صرف آپ ایک مثالی کامیاب طلباء کی صف میں شامل ہوں گے بلکہ آپ کی خود اعتمادی بھی آسمان کو چھونے لگے گی ۔
آپ ان چیزوں کے علاوہ بھی دوسری نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کر سکتے ہیں۔
 

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

      

:چھوٹے بچوں کیلئے




چھوٹے بچے اپنے ذوق کے بطابق کھلیں، رنگین تصویروں والی کہانیاں پڑھیں ، چھوٹی  چھوٹی نظمیں پڑھیں ۔ آجکل بہت سی اچھی اور سبق آموز اینیمیٹد مویز بنتی ہیں وہ دیکھیں ۔ اور جو دل چاہے وہ کر یار !!!

کمپیوٹر پر اردو لکھیں


بد قسمتی سے کمپیوٹر پر اردو لکھنا ایک نہایت  مشکل کام سمجھا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔کمپیوٹر پر آسانی سے اردو لکھی اور پڑھی جاسکتی ہے۔آپ کو کمپیوٹر پر اردو لکھنے کیلئے بس ایک چھوٹا سا سافٹ وئر (software) ڈاون لوڈ  کرنا پڑے گا اور بس آپ کا  کام ہو گیا ۔
کمپیوٹر پر پاک اردو انسٹالر ڈاون لوڈ کرنے کیلئے            یہاں کلک  کریں۔
اردو انسٹالر کی مدد سے آپ نہ صرف آسانی سے اردو لکھ سکتے ہیں بلکہ اس میں اردو کےتمام  مشہور فونٹز
(Fonts)جیسے جمیل اردو نستعلیق وغیرہ شامل ہیں۔
مکمل راہنمائی کیلئے درج ذیل  لنک پر کلک کریں اور ویڈیو دیکھیں۔ 
Pak urdu installer tutorial